ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / انکولہ میں سوشیل میڈیا پرغلط افواہ کے بعد ہزاروں لوگ گیس ایجنسی کے باہر ہوگئے جمع

انکولہ میں سوشیل میڈیا پرغلط افواہ کے بعد ہزاروں لوگ گیس ایجنسی کے باہر ہوگئے جمع

Wed, 27 Dec 2023 18:33:01    S.O. News Service

انکولہ:27؍دسمبر(ایس اؤ نیوز ) 31ڈسمبر 2023سے پہلے پکوان گیس گاہکوں کےلئے ضروری ہے کہ وہ اپنا آدھار کارڈ، بینک پاس بک اور گیس ایجنسی سے مہیا کردہ بک ،گیس ایجنسی لےجاکر اپنی تفصیلات (کے وائی سی) جمع کرائیں ۔ اگر نہیں کئے تو آپ کی سبسڈی بند ہوجائے گی۔ موبائیل پر وائرل ہوئے مسیج سے خوف کھاتے ہوئے ہزاروں گیس گاہک مانو انڈین گیس دفتر کے سامنے صبح پانچ بجے سے ہی قطار میں کھڑے نظر آئے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ موبائیل پروائرل مسیج جھوٹا اور بے بنیاد ہے تو کئی گاہک واپس اپنے گھروں کو لوٹنے لگے۔

انڈین آئیل کارپوریشن بیلگام کے دفتر سے گیس ایجنسیوں کو مسیج دیاگیا ہے  کہ 31ڈسمبر سے پہلے سبھی گیس گاہکوں کی کے وائی سی کروالیں۔ سرکلر میں کے وائی سی کے لئے آخری تاریخ 31ڈسمبر ہے۔ اپنے شہر کی متعلقہ گیس ایجنسی دفتر میں کے وائی سی کی جارہی ہے۔ لیکن کہیں بھی آخری تاریخ 31ڈسمبر ہونے اور سبسڈی بند کئےجانےکی کوئی اطلاع یا جانکاری درج نہیں تھی۔ شرپسند عناصرو ں نے متعلقہ جھوٹے سرکلر کو سوشیل میڈیا پر وائر ل کرتےہوئے کہا تھا کہ کے وائی سی کرانے کے بعد یکم جنوری سے فی الحال 903روپئے والا سلینڈر 500روپئے میں مل جائے گا۔ اور اگر کے وائی سی نہیں کرائیں گے تو سبسڈی نہیں ملے گی اور کمرشیل قیمت پر یعنی فی سلینڈر 1400روپئے ادا کرنے پڑیں گے۔ اس طرح کا مسیج جب موبائیل پر آنا شروع ہوئے تو ہردیہات سے ہزاروں گاہک کے وائی سی کے لئے گیس ایجنسی دفتر کا رخ کرنا شرورع کردیا۔ اس سلسلےمیں محکمہ تغذیہ کے نائب ڈائرکٹر منجوناتھ سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جھوٹے پیغامات پر دھیان نہ دیں۔ حکومت نےکہیں بھی کے وائی سی کےلئے 31ڈسمبر آخری تاریخ ہونے کی بات نہیں کہی ہے۔

انکولہ کی گیس ایجنسی کےسامنے کھڑی ہوئیں ہزاروں عورتوں میں سےایک گلابی گوڈا نے کہاکہ میں یہاں صبح 5بجے سے ہی کے وائی سی کے لئے کھڑی ہوں۔ لیکن ابھی تک نہیں ہواہے۔ میرےآگے 250لوگ ہیں۔ ایسے میں اگر میں اپنے گھر لوٹ کر جاؤنگی تو دوبارہ یہاں آنے کےلئے مجھے 300روپئے خرچ کرنے ہونگے۔ میں آپ سے ہی درخواست کرتی ہوں کہ میری مدد کریں۔

دوسری طرف گیس ایجنسی مالکان کا کہنا ہےکہ ہمارے اپنے دفتروں میں کےوائی سی کاکام جاری ہے۔ لیکن محکمہ کی طرف سے دی گئی اطلاع کے مطابق ہوم ڈیلیوری کے دوران کے وائی سی ہوسکتی ہے۔ مگر ہماری پریشانی یہ ہے کہ چند دیہات میں سرور کا مسئلہ ہوتاہے تو پھر کیسے ان کے گھروں میں پہنچ کر کےوائی سی کی کارروائی کو انجام دیں۔


Share: